ہمیں بھی عشق ہوا تھا


NOTE

نوٹ: املا کی بیشمار غلطیاں نظر اینگی کیوں کے یہ میرا پہلا تجربہ ہے کمپیوٹر پی اردو لکھنے کا اور وہ بھی گوگل ٹرانسلیشن کو استعمال کرتے ہوے ، لہٰذا مضمون پی غور کیجئے گا نہ کے املا پی. شکریہ. 

>

بچپن میں ایک بات سنی تھی “عشق دریا سمندروں ڈونگا” – اس وقت میری ناقص عقل اس فقرے کے اصل معنی سمجھنے سے قاصر تھی.  چونکے عاجز سائنس کا سٹوڈنٹ تھا، اور علم کی بات جاننے کی حس ہمیشہ حرکت میں رہتی تھی تو بندا مجبورن یہ سوچنے لگ گیا کے شاید عشق کسی دریا کا نام ہے جو دنیا کے کسی ایسے کونے میں ہے جہاں صرف خلائی  مخلوق کی رسائی ہے

ہمارے ایک دوست، نام طیّب بابر، چہرے ایسا کے میرے جیسے سخص کے چار چہرے انکے ایک میں سما جایں، جسم کی تو بات چھوڑ ہی دیجیے ، کسی امیر نائی کی دکان پی لگے بڑے سے حمام کی طرح، ایک آنکھ گول اور ایک خاصی چکور، مہ کھولتے تھے تو دریائی گھوڑے کا منظر نظر کے سامنے رقص کرنے لگ جاتا تھا. ایک دن ہمیں فرمانے لگے، یار عثمان، سنا ہے برمودہ ٹرینگل دنیا کی سب سے گہری جگہ ہے. ہم نے زیادہ غور نہیں کیا انکی بات پی کیونکے ہم انکی فضول بات پی دیہان دے کر اپنی قلفی کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن قلفی ختم ہونے کے بعد ہم ایک عجیب اضطراب کا شکار ہوگے. یہ عشق کا ع اور عشق کا ق تو کل پرسوں کی باتیں ہیں، ہم تو بہت پہلے سے اس کھوج میں تھے کے عشق زیادہ “ڈونگا” ہے یا برمودہ ٹرینگل.

خیر جوں توں کر کے تھوڑے بڑے ہوے، ہوش سمبھالا، چڑھتی جوانی کے ساتھ فلمیں دیکھنے کا شوق در آیا تو معلم ہوا کے اچھا عشق تو پیار محبّت کو کہتے ہیں، اور یہ بیماری تو خسرے کی طرح عام ہے، فرق صرف اتنا ہے کے خسرہ بچپن میں ہوتا ہے اور عشق جوانی میں، خسرہ آپکے جسم پی نشان چھوڑتا ہے، عشق کبھی کبھی روح کو جنھوڑ کے رکھ دیتا ہے، مگر تاثیر دونوں کی ایک سی ہی ہے.

ہمارے زمانے میں لوگوں کے گٹر میں گرنے کا رواج عروج پی تھا، ہر دوسرے دن کسی دوست کی گٹر میں گرنے کی خبر عام ہوتی تھی کیوں کے ہمارے ملک میں گٹروں پی ڈھکن لگانا توہین سمجھا جاتا ہے اور الله میاں سے تو بچپن سے ہے عاجز کے خاص روابط تھے. انہوں نے کبھی مایوس نہیں کیا مسلاّ ایک بار خبر ملی کے فلانا دوست گٹر میں گر گیا، اگلے دن اسکول میں ایک گندے تالاب کے کنارے کھڑے ہو کے ہم سوچ رہے تھے کے اس گند میں گر کے کیسا محسوس ہوتا ہوگا، بس یہ سوچنا تھا کے کسی نے شرارتاً ہمیں دھکا دے دیا اور ہم سیدھا گندگی کے ڈھیر میں جا گرے، ہمیں یہ تو نہیں پتا ہمارے دوست نے کیا سوچا تھا گرنے کے بعد مگر ہماری عقل جواب دے گئی تھی، بدبو ایسی کے تانسن کے سر اکھڑ جایں، سورج نڈھال ہوجائی، بادل اگ برسنے لگیں . الله الله کر کے کسی نے ہمیں نکالا. یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر رنج و غم کی کیفیت شدید تب ہوئی جب اسی حالت میں لڑکیوں سے بھری بس میں گھر تک سفرکیا . گھر پہنچے تو والدہ قریب نہ آیں.بدبو

کی ہو چاروں طرف پھیل چکی تھی، والد صاحب جو خود غسل خانے میں تھے، باہر آ کر پوچھنے  لگے کے یہ بدبو کہاں سے آرہی ہے. اسی طرح ایک دن خیال آیا کے جن لوگوں کا ایکسیڈنٹ ہوتا ہے ان کو کیسا محسوس ہوتا ہے، انہی دنوں ہم نے نیی نویلی سائیکل لی تھی، جو ہمارے لئے کوکاف کی پری سے کم نہ تھی، اس پی یہ کے نیا نیا چالیس روپے کا باجا بھی لگوایا تھا جو کوئی بیس کسم کے راگ بجاتا تھا.  اسلام آباد کی پر فضا گلیوں میں ہماری سائیکل ناچتی گاتی لہراتی جاتی تھی. بس ہمیں ایکسیڈنٹ کا خیال انے کی دیر تھی کے ادھر والدہ کو خیال آیا کے گھر میں انار دانا ختم ہوگیا ہے، سو ہمیں حکم دیا کے بازار سے خرید لاؤں. ہم بڑے شوق سے اپنی پری کو رقص کرواتے ابھی گھر کے گیٹ سے باہر ہی  ہوے تھے کے ایک کار کی ٹکر سے نہ صرف ہم زمین بوس ہوے، بلکے وہ تمام ارمان جو ہم نے پری سے مطلق دل میں بسا رکھے تھے، وہ بھی زمین بوس ہوگے. گرنے کے بعد جب پری پی نظر ڈالی تو اسکا کیریئر ہوا میں پنگ پانگ کی گیند کی طرح جھول رہا تھا اور پہیہ خلافت عثمانیہ کے برسغیر کا نقشہ پیش کر رہا تھا ,کچھ سمجھ نہ ائی تو ہم نے رونا شروع کردیا، کار ولا تو فرار ہوچکا تھا مگر ایک لمحے میں ہمارے تمام خواب و ارمان چکنا چور کر گیا تھا.

الله میاں نے جیسے ہمیں پہلے کبھی مایوس نہ کیا تھا تو اب مایوس کرنے کا تو سوال ہے پیدا نہیں ہوتا، بس بدقسمتی یہ کے ایک دن نجانے ذہن کے کس بیکار کونے میں یہ خیال آگیا کے جن کو عشق ہوتا ہے، انکو کیسا محسوس ہوتا ہوگا…

پھر ایک دن الله کی طرف سے “اس” سے ملاقات کا موقع بن گیا. ملاقات سے پہلے تک تو صرف بات عام سی دوستی تک تھی لیکن ملاقات کے بعد دل کے صحرا میں مدّتوں خشک سالی کے بعد جیسے کھل کے ابر برسا ہو. جب اس پی پہلی نگاہ پر تو ایسے معلم ہوا جیسے دنیا جہاں کے سب کیڑے مکوڑے میرے جسم پر رینگنے لگ گئے ہوں، حلق خشک، زبان پی فرونی دور کا وہ تالا لگ گیا جسکی چابی خود فروں نے دریا نیل میں بہا دی تھی. کانوں میں ہما وقت ہزاروں ڈرل مشینوں کی آواز گونجنے لگی. ارے بھیا یہ کیا ہوا، ابھی تو ہم پوری طرح بالغ بھی نہیں ہوے، یا الله یہ کیا ماجرا ہے, محترمہ ہماری حالت زار دیکھ کر یہ سمجھیں کے شاید ہمارا آخری وقت آن پہنچا ہے اور سچ تو یہ ہے کے ہم نے بھی دل میں قلمہ پڑھ لیا  تھا.

الله الله کر کے تھوڑی دیر بعد ہمارے اوسان بحال ہوے تو ایک عام شکل و صورت کی خاتون میرے سامنے موجود تھیں، مگر نجانے کیوں مجھے کوکاف کی پری سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہیں تھیں. کچھ دیر ان کے ساتھ گزرنے کے بعد ہم نے راہ فرار میں ہے غنیمت جانی مگر دل شاید ادھر ہے چھوڑ آے

گھر پہنچتے ہے پہلا کام یہ کیا کے اذان کا بیتابی سے انتظار کیا. نماز پڑھے ویسے بھی صدیاں بیت چکی تھیں مگر اس دن نجانے کیوں دل کیا کے آج تو الله میاں سے دو دو ہاتھ ہو ہی جایں. اذان ہوئی، وضو کیا اور مسجد روانہ ہوگے. گھر سے صرف دو منٹ کی مسافت پی مسجد تھی مگر محسوس ایسا ہو رہا تھا جیسے پیدل کراچی کے سفر کو نکل پڑے ہیں

نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد کے ایک کونے میں مراقبے کی حالت میں بیٹھ گئے. کچھ دیر سوچنے کے بعد عرض کی

یا الله جیسے تجھے حوا سے محبّت تھی، مجھے یقین ہے تجھے ویسے ہی حوا کی بیٹی سے بھی محبّت ہوگی لیکن ستم ظریفی یہ ہے کے مجھے بھی حوا کی بہت ساری بیٹیوں میں سے ایک سے محبّت ہوگی ہے.

“حکم ہوا “تو ہم کیا کریں

“بڑے احترم سے عرض کی، “تو نے ہی تو کرنا ہے جو کرنا ہے

“فرمایا “اچھا تو ایک لڑکی کی محبّت تجھے ہمارے در تک لے ہی آی

ہمّت باندھ کے بڑی چالاکی سے جواب دیا “دیکھ الله میاں، یقین کر یاد تو پہلے بھی بہت اتا تھا، مگر ذاتی مصروفیت اتنی تھی کے وقت ہے نہیں ملتا تھا، اب ذاتی مصروفیت بھی میری پیدا کردہ تو نہیں ہیں نہ، تو ہے دن رات

“کو چلاتا ہے، تو ہے سب کا ملک ہے، مصروفیت بھی تیری دی ہی ہے ہیں

فرمایا “تو گویا ایک لڑکی نے تجھے تیری ساری مصروفیت بھلا دیں، اور تو

“ہمارے پاس چلا آیا

“پھر پوچھا  “کبھی نماز پڑھنے کا خیال دل پی گزرا؟

“جواب دیا “نہیں

“پھر حکم ہوا “کبھی رمضان کے علاوہ روزہ رکھا؟

“میں ڈر کے جواب دیتا ہوں “نہیں

“فرمایا “کسی بھوکے کو کھانا کھلایا؟

“جواب دیتا ہوں “نہیں

“فرمایا “کسی یتیم کے سر پی ہاتھ رکھا؟

“جواب دیتا ہوں “نہیں

“مسکراے اور فرمایا “کیا چاہتا ہے

“میں بڑی بے شرمی سے جواب دیتا ہوں “اس لڑکی کو

“حکم ہوتا ہے “بڑا بے شرم ہے تو، چل یہ بتا تجھے پسند کیا آیا

میں جواب دیتا ہوں “حضور اگر تیری بنائی ہوئی ایک مخلوق دوسری کو

“پسند آگئی تو کیا برائی ہے

“فرماتے ہیں “وہ ہمیشہ رہیگی یا میں؟

“میں جواب دیتا ہوں، “ظاہر ہے تو رہیگا

دل میں خیال گزرا کے یہ تو نا ہی ہوگی.

فرمایا “گو کے میں جانتا ہوں مگر یہ پہلی بار تو نہیں کے تو اسی مقصد کے

“لئے آیا ہو

“میں ڈر کے جواب دیتا ہوں “جی ہاں، پہلی بار تو نہیں….

“حکم ہوتا ہے “گویا بندے میں استقامت کی بھی کمی ہے

میں کہتا ہوں “اب جو بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، ہوں تو تیرا بندا ہے، میں

“۔نے کدھر جانا ہے، کدھر سے مانگنا ہے سواے تیرے

جواب اتا ہے “اچھا اچھا ٹھیک ہے، دیکھیںگے سوچینگے، اور یاد رکھ، کوئی قابل ہو تو ہم اسکی مانگ اسی وقت پوری کردیتے ہیں، قابل نہ ہو تو اسکو پہلے قابل بناتے ہیں، مگر مانگ کسی کی رد نہیں کرتے، تو ٹھہرا جھوٹا اور مکار، تیری ہم رگ رگ سے واقف ہیں، تو آج اسکا ہے تو کل کسی کا ہوگا ،کیا ہم تجے نہیں جانتے؟ جا اب چلا جا، ہم نے سن لیا ہے تجھے، تیری

“بات سن لی ہے

میں الله میاں سے ڈانٹ سن کے گھر کی طرف دور لگا دیتا ہوں، اور جو تھوڑی بہت امید تھی، وہ بھی ٹوٹ جاتی ہے.

خیر اپنی ذاتی زندگی کو بلائے طاق رکھتے ہوے قصّہ مختصر یہ کے اس کے بعد جو کچھ ہوا اس میں پورا ہاتھ ہماری آنا اور بیوقوفی کا تھا. کبھی کبھی خیال گزرتا ہے کے الله میاں نے تو اپنی پوری کوشش کرلی مجھے سمجھدار بنانے کی مگر ہم نے بھی اتنی ہے کوشش کی کے کہیں ہم سمجھدار نہ ہوجاییں. کسی کے ہونے نہ ہونے سے زیادہ فرق تو نہیں پڑتا بس یہ ہے کے جیسے کسی بیمار سخص کی پیشانی پی کسی مسیحا کا ہاتھ لگ جائے، کسی گلاب کے مرجھانے سے پہلے اسکی خوشبو سے کوئی اسیر ہوجائی، کسی پیاسے پرندے کو صحرا میں تالاب مل جائے،

کسی قیدی کو تختہ دار سے پہلے جنّت کی بشارت مل جائے، کسی کا وقت آسان ہوجاے تو کسی کی آرزو تمام ہوجاے، بس کچھ زیادہ فرق تو نہیں پڑتا، بس اتنا کے جیسے کسی اداس شام میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا سینے کے پار ہوجاے، قحط سالی میں ابر جم کر برس پڑے، فقط اتنا سا فرق، صرف اتنا…

البتہ یہ ہے کے الله میاں جیسا پہلے تھا، ویسا ہے آج بھی ہے، اور ابھی بھی مایوس نہیں ہونے دیتا.

Advertisements

26 thoughts on “ہمیں بھی عشق ہوا تھا

  1. Falling in Gutter – Falling from Bicycle – Falling in Love : Awesome experiences 🙂 It somehow reminded me of ‘Kailay ka Chihlka’ . Enjoying your Urdu write-ups. Keep sharing 🙂

  2. mazah k element to khobi nibhaya ap ny..
    great try.. but you miss to explain “عشق دریا سمندروں ڈونگا” or may be i missed

  3. Humey bhi ishq hua tha ! Best fab excellent !! Muqalma with Allah is best part n woh jb app ko dhaka maar ker giraya gea !! And wapsi per larkiion sy bhaari hue bus !! Best !!
    Keep it up ! Behtreeen 🙂

  4. Oh my! This is a beautiful piece to read.. Kamal :).. especially the dialogue with Allah, I loved it… good job usman! Patras Bukhari ho tum bhi 😀

  5. ishq howa tha nai ishq hai…
    ishq marta nai blky marney k qabil kr deta hai 😛
    ishq ko khasrey se jo tashbi di or jo end kia wo kamal hai.

  6. I agree in our time there was an epidemic of falling in Gutter. Reminds me of my childhood. Modern day kids are over protected and don’t go out anyway. They won’t understand that awful smell

  7. واہ بھائی واہ ،ہم تو سمجے تھے کے وہ زمانے گئے جب رانجے بھینسیں چرایا کرتے تھے اور فرہاد پہاڑ کھودا کرتے تھے لیکن آپ نے تو اللّہ سے دو دو ہاتھ کرنے کی ٹھان لی لیکن جیتا کون؟ الله کی مخلوق سے عشق کرو گے تو ہارو گے ،الله سے کبھی عشق کرکے دیکھو تو سہی، پردہ نہ رہے گا باقی ..

  8. Tehreer main mazah pe girift karnay aur qaim rakhnay main to koi shaq nahi k ap nay insaf kia hai, Raba Sb! Magar unwan parh kar qari puray matann main ‘Ishq’ dhoondhta hai, jo nahi milta. Magar, baharhaal, tehreer ki umdgi, shaistagi aur latafat main koi shaq nahi.
    Ap k aainda urdu ki khidmat ka namoona dekhny ka intezar rahay ga.

  9. بچا ابھی کچا ہے

    یا یوں که لو کہ ابھی بچا ہی ہے ‘ اتنی جلدی شکایت لگانے پہنچ گیا – ابھی وار تو کرنے دیتا یار شیطان کو بھی اور نفس کو بھی 🙂

    ” عشق دریا سمندروں ڈونگا ” پہلے 2 پیراؤں کے بعد شائد آپ صرف سطح تک محدود رہ گئے 😛

    لب لباب ‘ آخری سطر ایمان کی پختگی کی طرف شروع سفر !

    1. HAHA! Janab apka comment inn tamam comments mein se sab se umdah hai :)! Bacha abhi waqeye he kacha hai, dua kijea k pakka hojai.

  10. meri feelings after reading this blog are:
    Mazmon kay lfzon main rawabit yun qawi they
    jaisey kay tasalsul main fiza taiz chli ho
    bchpn ki hikayat thi,jawani kay wazeefay
    jaisey kay sb hi hukm o saza taiz chli ho
    Bayan e ZULJALAL tha kis khobi say ayan
    jaisey kay muhabbat ki nawa taiz chli ho
    :”KUCH FARQ TO PRTA NHI” pr aey dil e nadan
    is baar kay jaisey ye bala taiz chli ho
    mazmoon pay tanqeed jasarat ye kisey hai?
    alfaz ki jaisey ye ghata taiz chli ho.

  11. Mashallah ..Allah apko hamesha khush rakhey … I m so just speechless right now !! Isko parhne ke baad .. it can change lives !!

  12. اور جناب ایک بات تو بھول ہی گیا تھا ۔ کہ

    پھر کیا معلوم ہوا کون ڈونگا ہے ؟ یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں

    عشق ڈونگا ہے یا برمودہ ٹرینگل

  13. yh ishq hai khud garzi,
    khuda- wand-i haqeeqat samajh
    marfat-e-alahi jb ho mayasar
    zindagi koo attaa aur
    mot ko khuda se milan smjh
    yhi hai ishq ki ramz……

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s